کیا وینزویلا کے صدر کے خلاف امریکہ میں، امریکی عدالت کے سامنے، امریکی قانون کے تحت مقدمہ چلایا جا سکتا ہے؟ بین الاقوامی عدالت انصاف 2002 میں واضح طور پر بتا چکی ہے کہ اس کا جواب نفی میں ہے۔ کسی بھی ریاست کے صدر کے خلاف دوسری ریاست میں مقدمہ نہیں چلایا جا سکتا۔ تو کیا اب بھی، جب وینزویلا میں صدارت کی ذمہ داریاں سپریم کورٹ کے حکم پر ڈیلسی روڈریگز کو دی جا چکی ہیں، سابق صدر نکولس مادورو کو یہ استثنیٰ حاصل ہے؟ جی ہاں انٹرنیشنل لا کے مطابق اب بھی انہیں یہ استثنیٰ حاصل ہے کیوں کہ وہی وینزویلا کے صدر ہیں۔ جب انہیں اغوا کیا گیا وہ صدر ہی تھے اور قائم مقام صدر کی تعیناتی سے اصلی صدر کو حاصل استثنیٰ ختم نہیں ہو جاتا۔ لیکن کیا وہ اب سابق صدر نہیں ہو چکے؟ جی نہیں، کوئی ریاست صدارت کا عہدہ خالی نہیں رکھ سکتی اس لیے قائم مقام کی تعیناتی ضروری تھی لیکن ایک صدر کو اس کے عہدے سے ہٹانے اور سابق کرنے کا جائز طریقہ متعلقہ ملک کے آئین میں لکھا ہوتا ہے، کسی حملہ آور ملک کے حملے کے نتیجے میں اغوا شدہ صدر قانونی اعتبار سے سابق صدر نہیں ہو جاتا، صدر ہی رہتا ہے اور اس کو استثنیٰ کی چھتری میسر رہتی ہے۔
پاکستان بنگلہ دیش تعلقات کا نیا دور
یہ ایک عجوبہ ہی کہا جائے گا کہ پاکستان کے بنگلہ دیش سے پچاس برسوں سے چل رہے دشمنوں جیسے تعلقات اب دوستی میں تبدیل ہو گئے ہیں۔ یہ دوستی کا موقعہ شاید کبھی میسر نہ آتا اگر حسینہ واجد اپنے عوام پر ظلم و ستم کے پہاڑ نہ توڑتیں اور اپنی حکمرانی کو طول دینے کے لیے آمرانہ ہتھکنڈے استعمال نہ کرتیں۔ انھوں نے ہر عام انتخابات میں دھاندلی کے ریکارڈ توڑتے ہوئے کامیابیاں حاصل کیں۔ ایسے مواقع پر اپوزیشن کے سرکردہ رہنماؤں کو جیل میں ڈالے رکھا۔ خالدہ ضیا بنگلہ دیش کی ایک مقبول سیاسی رہنما ہیں وہ بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی سربراہ بھی ہیں۔ یہ پارٹی حسینہ کی کرپشن کی وجہ سے عوام کی ہر الیکشن میں اولین ترجیح ہوتی تھی مگر انھوں نے تو اس پارٹی کو الیکشن میں حصہ لینے پر پابندی لگا دی تھی۔ ادھر جماعت اسلامی بھی عوام میں خاصی مقبول ہے مگر حسینہ نے اس کے ساتھ تو وہ ظلم کیا جو شاید کسی بھی جمہوری ملک میں کسی سیاسی پارٹی سے نہیں کیا جاتا۔ جماعت اسلامی کو کرش کرنے کے لیے اس کے کئی سرکردہ رہنماؤں کو پھانسی پر چڑھایا گیا۔ ان پر یہ الزام لگایا گیا کہ انھوں نے بنگلہ دیش کی پاکستان سے علیحدگی کے وقت بنگالیوں کو قتل کیا تھا جب کہ یہ جرم کسی بھی عدالت میں ثابت نہ ہو سکا۔
جماعت کے رہنماؤں کو پھانسی دینے کی اصل وجہ بھارت کا حکم تھا۔ بھارت کو ڈر تھا کہ جماعت اسلامی ایک ایسی پارٹی ہے جو پاکستان کے بہت قریب ہے اور وہ بنگالیوں کو پھر سے پاکستان سے جوڑ سکتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حسینہ نے وہ سب کچھ کیا جس سے ان کا اقتدار مستحکم ہو سکتا تھا۔ وہ بھارت کے اتنے قریب چلی گئی تھیں کہ بنگلہ دیش بھارت کا ہی ایک صوبہ لگنے لگا تھا۔ حسینہ نے بھارت کو اپنی سرزمین پر بعض ایسی سہولیات بھی دیں جن سے بنگلہ دیشی عوام ان سے بدظن ہوتے چلے گئے۔ انھوں نے بھارتی فوج کو اپنی سرزمین سے گزر کر بھارت کی جنوب مشرقی ریاستوں تک پہنچنے کی سہولت بھی فراہم کی تھی۔ حسینہ کی جانب سے بھارت کی یہ ایک بڑی مدد تھی کیونکہ بھارت کی مشرقی ریاستوں میں آئے دن بغاوت کی لہر اٹھتی رہتی ہے جسے رفع دفع کرنے کے لیے پہلے شمال کی جانب سے لمبا سفر طے کر کے اور کافی وقت صرف کرکے پہنچنا پڑتا تھا۔ حسینہ عوام کی مرضی کے بغیر بھارت کو یہ سہولت دے کر کافی تنقید کا نشانہ بنی تھیں۔
حقیقت یہ ہے کہ بنگلہ دیشی عوام بھارت کے بنگلہ دیش میں روز بہ روز قومی مفاد کے خلاف بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور حسینہ کا ہر معاملے میں بھارت کا دم بھرنے سے ان کے خلاف ہوتے گئے۔ حسینہ کی مسلسل پندرہ سالہ حکمرانی اور کرپشن نے ملک کو نہ صرف حسینہ بلکہ بھارت سے بھی نجات حاصل کرنے کے لیے لوگوں کو مجبور کر دیا تھا۔ حسینہ واجد نے عوام پر ایک اور بھی ظلم کئی سالوں سے جاری و ساری رکھا۔ انھوں نے 1971 مکتی باہنی کے دہشت گردوں کو خصوصی رعایتیں دے رکھی تھیں۔ ان کے لیے سرکاری ملازمتوں میں سب سے زیادہ کوٹہ مختص کر رکھا تھا پھر ان کی اولادوں کو بھی اس سہولت سے بہرہ مند کیا جا رہا تھا۔ اس ناانصافی نے عام بنگالیوں کے لیے کافی مشکلات پیدا کر رکھی تھیں۔ وہاں کی یونیورسٹیوں سے ہر سال ہزاروں طلبا فارغ التحصیل ہو کر نکلتے ہیں مگر سرکاری نوکریوں کے لیے مارے مارے پھرتے تھے۔ اس ناانصافی نے بالآخر نوجوانوں اور طلبا کو حسینہ کی حکومت کے خلاف احتجاج کرنے پر مجبور کر دیا۔ عوام تو پہلے ہی حسینہ کی آمرانہ حکمرانی اور کرپشن سے بے زار تھے۔ چنانچہ وہ بھی طلبا کے ساتھ مل گئے اور پھر پورے بنگلہ دیش میں حسینہ کے خلاف احتجاج شروع ہو گیا۔
حسینہ نے اس عوامی بغاوت کو دبانے کے لیے پولیس اور فوج کو بے دریغ گولیاں چلانے کا حکم دے دیا جس سے پانچ سو سے زیادہ طلبا اور عام لوگ مارے گئے، اس قتل عام نے مظاہرین کو بے قابو کر دیا اور وہ حسینہ کی رہائش گاہ کی جانب آگ لگانے کے لیے پیش قدمی کرنے لگے ایسے میں حسینہ کو بنگلہ دیش میں کہیں پناہ نہ ملی بالآخر انھیں اپنے آقا مودی کے قدموں میں ہی پناہ مل سکی۔ اس کامیاب انقلاب کے بعد عوام نے حسینہ کے والد مجیب الرحمن کے مجسمے ملک میں ہر جگہ توڑ پھوڑ ڈالے اور دفاتر سے حسینہ سمیت ان کے والد جنھیں حسینہ نے بابائے بنگلہ دیش کا درجہ دے رکھا تھا ہٹا دی گئیں۔ وہاں اب ایک عارضی حکومت نوبل انعام یافتہ محمد یونس کی سربراہی میں قائم ہے جس نے وہاں بھارت کی بالادستی کو ختم کر کے پاکستان سے برادرانہ تعلقات استوار کر لیے ہیں۔ اب پاکستان سے تجارت کا آغاز بھی ہو گیا ہے جو حسینہ کے دور میں شجر ممنوعہ کی حیثیت رکھتا تھا۔ دونوں ممالک میں مزید دوستانہ تعلقات استوار ہوتے جا رہے ہیں۔
عثمان دموہی
بشکریہ ایکپسریس نیوز
’ستائیسویں ترمیم نے آئین کو عملی طور پر قتل کر دیا ہے‘
اپنی کتاب 1984 میں جارج اورویل نے لکھا تھا کہ ’رہنماؤں نے آپ سے کہا کہ آپ جو اپنی آنکھوں سے دیکھتے اور کانوں سے سنتے ہیں، اس پر یقین نہ کریں، یہ سب سے اہم ہدایت ہے‘۔ پاکستان نے ماضی میں کئی بار فوجی آمروں کو آئین کو منسوخ یا معطل کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ درحقیقت جنرل ضیاالحق کو تو یہ تک کہتے سنا گیا ہے کہ آئین ایک کاغذ کے ٹکڑے سے زیادہ کچھ نہیں جسے وہ کسی وقت بھی پھاڑ سکتے ہیں۔ مرحوم آمر کا بیان اس تکبر کا عکاس تھا جو اقتدار کے ساتھ آتا ہے اور یہ اس آئین کو کم تر سمجھنے کا ان کا رویہ تھا جسے 1973ء میں ایک منتخب پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر منظور کیا تھا۔ 1988ء میں ایک فضائی حادثے میں جنرل ضیا الحق کے انتقال کے بعد آئین کو کچھ ترامیم کے ساتھ بحال کردیا گیا تھا۔ جنرل پرویز مشرف نے 1973ء کے آئین کو ایک بار نہیں بلکہ دو بار معطل کیا۔ انہوں نے پہلے 1999ء میں آئین معطل کیا اور پھر 2007ء میں کیا۔ حالانکہ ان کے اس اقدام کو دوسری بار قانونی تحفظ نہیں مل سکا۔ وہ دوسری بار آئین معطلی کے بعد کچھ ماہ تک اقتدار میں رہے۔ آئین کو بعد میں بحال کیا گیا۔ اصل بات یہ ہے کہ ان فوجی حکمرانوں نے بھی آئین کو اس طرح نہیں توڑا جس طرح اب ایک ایسی پارلیمنٹ نے کیا ہے جس کے مینڈیٹ پر پہلے ہی عوامی اعتراضات ہیں۔
جہاں 26ویں ترمیم نے حکومت کی شاخوں کے درمیان طاقت کے توازن کو بری طرح ہلا کر رکھ دیا تھا، 27ویں ترمیم نے تو آئین کو عملی طور پر قتل ہی کر دیا ہے۔ آخری رسومات ’بگ برادر‘ کی نگرانی میں عجلت میں ادا کی جا رہی ہیں۔ یہ شاید ہماری ناقابلِ رشک آئینی تاریخ کا سیاہ ترین لمحہ ہے۔ یہ کٹھ پتلی کے تماشے کی طرح تھا جہاں ایک کے بعد ایک قانون ساز ترمیم کی حمایت میں کھڑے ہوکر بولتا نظر آیا حالانکہ اس معاملے پر شاید ان سے ان کی رائے دریافت ہی نہیں کی گئی ہو گی۔ جب ووٹ ڈالنے کا وقت آیا تو انہوں نے قانون کے مسودے کو پڑھے بغیر صرف ’ہاں‘ کا نعرہ لگایا جو انہیں میٹنگ کے دوران دیا گیا تھا۔ انہوں نے صرف وہی کیا جو ان کی سیاسی جماعت نے انہیں کرنے کو کہا تھا۔ ان میں سے کچھ جانے پہچانے چہرے بھی تھے جنہوں نے ماضی میں بھی ضیا الحق اور پرویز مشرف کی فوجی حکومتوں میں آئین میں تبدیلی کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ سینیٹ میں ترمیم کی منظوری کے لیے ووٹوں کی مطلوبہ تعداد اپوزیشن بینچز کے چند منحرف اراکین کو اپنی جانب کر کے حاصل کیے گئے۔ کسی کو یہ یاد دلانے کی ضرورت نہیں کہ یہ کیسے ہوا۔
حزب اختلاف کی ایک جماعت، اپنے متعدد قانون سازوں کی حالیہ نااہلی کی وجہ سے توڑ پھوڑ کا شکار ہے اور ان کے مزید اراکین مزید دھتکار دیے گئے جنہیں انسداد دہشت گردی کی عدالتوں نے مشکوک ٹرائلز میں سزا سنائی تھی۔ ان اراکین کے پاس پارلیمنٹ میں ووٹ کے عمل کا بائیکاٹ کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔ ایوان میں قابلِ ذکر اپوزیشن کی عدم موجودگی کے باوجود یہ دھوکا دہی جاری رہی۔ اس سے نہ صرف 26ویں ترمیم کے بعد عدالتوں کے لیے جو تھوڑی سی آزادی چھوڑی گئی تھی، وہ اب مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے بلکہ حکومت پر سویلین کنٹرول بھی ختم ہو چکا ہے۔ نئی ترمیم قانونی طور پر ملک کے پراٹورین ریاست (فوج کے زیر کنٹرول ریاست) بننے کے اقدام کو تحفظ فراہم کرے گی۔ آرمی چیف کو غیر معمولی اختیارات دیے گئے ہیں۔ انہیں اس سال مئی میں بھارت کے ساتھ 4 روزہ مختصر تنازع کی قیادت کرنے پر فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دی گئی تھی۔ اب انہیں قانون کے مطابق مکمل استثنیٰ ہو گی اور انہیں کوئی بھی سزا نہیں دی جاسکتی جبکہ ان کی مدت ملازمت میں دوبارہ توسیع کے آپشن کے ساتھ فی الحال مزید 5 سال تک توسیع کردی گئی ہے۔
یہ تاحیات استثنیٰ نہ صرف فائیو اسٹار رینک والے مسلح افواج کے افسران کو دیا گیا ہے بلکہ صدر کو بھی دیا گیا ہے۔ لیڈران اور ریاستی عہدیداروں کے اعمال کا محاسبہ نہیں کرنے کی مثال کسی بھی جمہوری ملک میں نہیں ملے گی۔ یہ نہ صرف جمہوری اصولوں کی نفی ہے بلکہ قانون کی حکمرانی کے بھی خلاف ہے۔ جمہوری ممالک میں منتخب رہنماؤں کو اس طرح کا استثنیٰ نہیں دیا جاتا حتیٰ کہ جب وہ سرکاری دفتر میں ہوتے ہیں تب بھی ایسا رویہ نہیں اپنایا جاتا۔ لیکن پاکستان میں 27ویں ترمیم کے بعد انہیں غیرقانونی اقدامات سے مکمل استثنیٰ حاصل ہو گا۔ قومی اسمبلی میں ترمیم پر بحث دیکھنے میں کافی مزہ آیا جہاں وزرا اور حکومتی بینچز کے دیگر اراکین نے ملک کو 1973ء کا آئین دینے پر ذوالفقار علی بھٹو کی تعریف کرتے ہوئے اپنی تقریر کا آغاز کیا اور پھر ساتھ ہی یہ دعویٰ بھی کیا کہ اس ترمیم سے ملک میں جمہوریت مزید مضبوط ہو گی۔ آئین کی روح کو مارنے کے بعد جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کی بات کرنے والے ان سیاستدانوں کی منافقت پر تعجب بھی نہیں کیا جاسکتا۔ کیا محض کٹھ پتلی بن کر سامنے آنے والے چہروں سے کسی اور چیز کی توقع رکھنی چاہیے؟
کچھ بھی ہو، ایوان میں ان کی موجودگی بعض حلقوں کی مرہون منت ہے۔ سینیٹ میں ترمیم پیش کرنے سے ایک دن قبل میں نے مسلم لیگ (ن) کے ایک بہت ہی سینئر رہنما سے اس تجویز کے بارے میں دریافت کیا جو ماضی میں کئی اہم وزارتی عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں۔ انہیں درحقیقت ترمیم کی دفعات کا کوئی اندازہ نہیں تھا۔ اور وہ یقیناً اکیلے نہیں ہوں گے جنہیں اندازہ نہیں ہو گا۔ یہاں تک کہ کچھ وفاقی وزرا نے بھی نجی طور پر اعتراف کیا کہ انہیں اس مشاورت میں شامل نہیں کیا گیا تھا۔ ترمیم کے مسودے پر رازداری کو دیکھتے ہوئے یہ حیرت کی بات نہیں ہے۔ اور جس طرح سے اسے پارلیمنٹ کے ذریعے پہنچایا جا رہا ہے، اس سے تصور کرنے کے لیے کچھ باقی نہیں رہا۔ یہ ہے ہماری نام نہاد جمہوریت کی حالت جوکہ جوڑ توڑ کے ذریعے انتخابات میں ہیرا پھیری سے اقتدار میں آئی ہے۔ اس پوری صورت حال میں سب سے مایوس کُن پیپلز پارٹی کا کردار ہے۔ اگرچہ پارٹی حکمران اتحاد کا حصہ ہے، اس نے حکومت میں عہدہ نہ لینے کا انتخاب کیا ہے پھر بھی آئین کے انہدام میں پارٹی اور اس کے قائدین کا بھی اہم کردار تھا جسے بنانے کا سہرا پیپلز پارٹی اپنے سر لیتی ہے۔
جب پی پی پی کے قانون سازوں نے آئین کے تقدس کو برقرار رکھنے کے لیے جمہوریت کے لیے پارٹی قیادت کی طرف سے دی گئی قربانیوں کو فصاحت کے ساتھ بیان کیا تو اس وقت یہ سب غیرحقیقت پسندانہ لگ رہا تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پی پی پی نے ماضی میں جمہوریت کے لیے جدوجہد کی ہے۔ لیکن اس کی موجودہ قیادت نے جماعت کی وراثت سے غداری کی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے آئین میں تبدیلیوں بالخصوص علیحدہ آئینی عدالت کے قیام کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ میثاقِ جمہوریت کا حصہ ہے جس پر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے 2006ء میں دستخط کیے تھے۔ تاہم عدالت کے بارے میں ان کی دلیل کوئی معنی نہیں رکھتی۔ میثاقِ جمہوریت، سویلین حکمرانی کو مضبوط رکھنے اور آئین کے تحفظ کے بارے میں بھی ہے۔ 27ویں ترمیم میثاقِ جمہوریت کے ہر نکتے کے خلاف ہے اور یہ ملک کو آمرانہ حکمرانی کی طرف لے جاتی ہے۔ موجودہ رہنماؤں کو ماضی کی قیادت کے مقابلے میں تاریخ انتہائی مختلف انداز میں پرکھے گی۔ اب ایک بڑا سوال یہ ہے کہ کیا سپریم کورٹ آئین اور 26ویں ترمیم کے بعد عدلیہ کو جو تھوڑی سی آزادی حاصل ہے، اس کے تحفظ کے لیے کچھ کرے گی؟ بدقسمتی سے نئی ترمیم نے ریاست کے اتحاد کو بھی کمزور کر دیا ہے۔
زاہد حسین
بشکریہ ڈان نیوز
کرکٹ کے جواری
پاکستان کرکٹ کا اگر ایک طرف سیاست زدہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے ستیاناس کیا ہے تو دوسری طرف کرکٹ میں جوئے اور جواریوں کا اثر اس قدر بڑھ گیا ہے کہ اُن کے خلاف کوئی بولتا ہی نہیں، اور اگر کوئی بولتا ہے تو اُسے نشانہ بنایا جاتا ہے۔ سابق کرکٹر راشد لطیف سمیت چند ایک کرکٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ محمد رضوان کو چند ماہ بعد ہی ون ڈے کرکٹ کی کپتانی سے ہٹانے کی اصل وجہ اُن کی جوئے کے خلاف مخالفت ہے۔ بابر اعظم کے حوالے سے بھی کہا جا رہا ہے کہ رضوان کے ساتھ ساتھ بابر کے کیریئر کو بھی جان بوجھ کر اس لیے تباہ کیا جا رہا ہے کیونکہ وہ بھی جوئے کے کھلے مخالف ہیں۔ رضوان اور بابر کا یہ بھی’’جرم‘‘ تصور کیا جا رہا ہے کہ وہ دونوں کیوں پاکستان کی ایک اہم ترین شخصیت سے راولپنڈی میں ملے اور اُن سے جوئے اور جوئے کی کمپنیوں کے خلاف ایکشن لینے کی درخواست کی۔ اور یہ بھی کہ ان دونوں کھلاڑیوں نے پی ایس ایل کے دوران جوئے کی کمپنیوں کے بیجز پہننے سے کیوں انکار کیا۔ بابر اور رضوان کی شکایت کے بعد جواریوں کے خلاف کچھ عرصہ کیلئے کارروائی ہوئی، لیکن پھر جیسے پاکستان میں اکثر ہوتا ہے، خرابی واپس لوٹ آئی کیونکہ بڑوں کی توجہ دوسرے معاملات کی طرف ہو گئی۔ اسی دوران ایک پروپیگنڈا مہم کے ذریعے بابر اور رضوان کے بارے میں یہ تاثر دیا جانے لگا کہ یہ دونوں صرف اپنی ذات کیلئے کھیلتے ہیں۔
ان دونوں کرکٹرز کے حوالے سے ایسے فیصلے ہونے لگے کہ صاف ظاہر ہونے لگا کہ اُنہیں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان کی کارکردگی کو پرکھنے کا معیار دوسروں سے مختلف بنا دیا گیا۔ دوسرے کھلاڑی شکست کا باعث بن جائیں تو کوئی بات نہیں، لیکن اگر یہ دونوں ٹیم کو نہ جتوا سکیں تو فوراً ٹیم سے باہر! اور پھر یہ پروپیگنڈا شروع ہو جاتا کہ یہ دونوں اپنی ذات کیلئے کھیلتے ہیں۔ ان کی جگہ جن کھلاڑیوں کو موقع دیا گیا، وہ بدترین انداز میں ناکام ہوئے، لیکن بُرے پھر بھی یہی دونوں ٹھہرے ۔ چلیں، کرکٹ میں سلیکشن کے مسئلے پر بحث مباحثہ تو چلتا رہتا ہے، لیکن جس بات نے مجھے سب سے زیادہ تکلیف دی وہ کرکٹ میں جوئے اور جواریوں کی کھلے عام واپسی ہے۔ اس پر نہ کرکٹ کے ذمہ داران بات کرتے ہیں، نہ میڈیا، اور نہ ہی سابق کھلاڑی۔ جوئے اور جواریوں کے پاکستان کے بڑے بڑے شہروں میں بل بورڈز (یعنی اشتہارات) لگ گئے، لیکن یہ اشتہارات نہ پی سی بی کو نظر آئے اور نہ ہی ٹی وی چینلز کو۔ روزانہ گھنٹوں کرکٹ کرکٹ کرنے والے چینلز اور ایکسپرٹس کیلئے جیسے کرکٹ میں جوا اور جواری کوئی مسئلہ ہیں ہی نہیں۔ بلکہ الٹا ایسے جواری، جو کھل کر جوئے کو پھیلا رہے ہیں، اُن سے کرکٹ کے معاملات پر ماہرین کی طرح تبصرے بھی لیے جاتے ہیں۔
حکومت بھی شاید اُن بڑے جواریوں کے خلاف ایکشن لینے سے ڈرتی ہے جنہیں ماضی میں پکڑا گیا اور جنہوں نے بعد میں معافی بھی مانگی۔ ایک سوشل میڈیا سے جڑے شخص کو کرکٹ میں جوئے سے متعلق شکایت پر گرفتار کر لیا گیا، لیکن بڑے جواری کے خلاف شکایت کے باوجود کچھ نہ کرنے کی پالیسی جاری ہے۔ جوئے اور جواریوں کے لیے کھلی چھٹی ہے، لیکن ان کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔ اگر کرکٹ میں جوئے اور جواریوں کا تعلق چند افراد تک محدود ہوتا تو شاید اس کو نظرانداز کیا جا سکتا تھا، لیکن یہاں معاملہ پاکستان اور پاکستانی قوم کا ہے، جنہیں جوئے کی لعنت میں دھکیلا جا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق بھارت نے کرکٹ سے متعلق جوئے کی کمپنیوں پر پابندی عائد کر دی ہے، لیکن اسلام کے نام پر قائم ہونے والے پاکستان میں یہ گندا دھندا غیر قانونی طور پر کھلے عام جاری ہے۔
انصار عباسی
بشکریہ روزنامہ جنگ
سوڈان : انسانی حرص کا مزار
سوڈان وہ سرزمین ہے جہاں تاریخ نے سب سے پہلے تہذیب کا لباس پہنا۔ نیل کی لہریں جب مصر کی وادی میں زندگی بکھیرتی تھیں تو ان کا منبع سوڈان کی گود میں تھا۔ افریقہ کی وہ پہلی مملکت جس نے علم فن اور حکمرانی کو ایک ساتھ پروان چڑھایا۔ نپاتا اور مروئے کے مٹیالے کھنڈرات آج بھی گواہی دیتے ہیں کہ یہاں کبھی فرعونوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے والی تہذیب آباد تھی۔ وقت گزرا عرب آئے اسلام پھیلا، نیل کے کنارے اذانوں سے گونج اٹھے۔ قرون وسطیٰ میں سوڈان تجارت زراعت اور علم کا مرکز بن گیا۔ یہ وہی ملک تھا جہاں سونا مٹی سے نکلتا اور علم دلوں سے۔ پھر سامراجی لہریں آئیں برطانیہ اور مصر نے اس پر اپنی مشترکہ چھتری تان لی۔ 1956ء میں سوڈان نے غلامی کی زنجیریں توڑ دیں لیکن فوجی بغاوتیں آمریتیں اور خانہ جنگیاں اس کا مقدر بن گئیں۔ جنوبی سوڈان کی علیحدگی نے جسم کو دو ٹکڑوں میں بانٹ دیا۔ سوڈان کی یہ تاریخ صرف ماضی نہیں ایک آئینہ ہے جو ہمیں دکھاتا ہے کہ جب قومیں اپنی یادداشت کھو دیں تو جغرافیہ ان کا ماتم کرنے لگتا ہے کہتے ہیں زمین کی یادداشت کبھی نہیں مرتی وہ اپنے اوپر بہنے والے خون پسینے اور آنسوؤں کو محفوظ رکھتی ہے۔ سوڈان کی مٹی بھی شاید آج یہی کہہ رہی ہے کہ میں نے کبھی فصلیں اگائی تھیں آج لاشیں اگا رہی ہوں۔
یہ وہی سوڈان ہے جو افریقہ کے نقشے پر امید کی طرح چمکتا تھا اب انسان کی خودغرضی کا نوحہ بن چکا ہے۔ یہ کہانی کسی ایک دن یا ایک فیصلے سے شروع نہیں ہوئی اس کا آغاز اُس دن سے ہوا جب اقتدار نے ضمیر کو شکست دی۔ 2019ء میں جب عوامی بغاوت نے عمرالبشیر کی تین دہائیوں پر محیط آمریت کا خاتمہ کیا تو سمجھا گیا کہ آزادی کا سورج طلوع ہو چکا لیکن جلد ہی اس آزادی نے اپنے ہی بیٹوں کو نگلنا شروع کر دیا۔ فوج اور نیم فوجی ملیشیا دونوں نے خود کو ریاست کا نجات دہندہ کہا مگر حقیقت میں دونوں نے ریاست کی روح کا قتل کیا۔ جنرل عبدالفتاح البرہان اور محمد حمدان دقلو حمیدتی اقتدار کی دو آنکھیں ہیں جن سے روشنی نہیں بلکہ اندھیرا نکلتا ہے ان کی جنگ تخت کیلئے ہے۔ اپریل 2023 سے یہ جنگ ایک ایسی آگ بن چکی ہے جو خرطوم سے دارفور تک ہر شہر کو جلا رہی ہے۔ الفاشر جو کبھی امن کی علامت تھا آج راکھ کا ڈھیر ہے لوگ زندہ رہنے کیلئے مردار کھانے پر مجبور ہیں۔ بچے ماؤں کی بانہوں میں دم توڑ رہے ہیں اور اسپتالوں میں جگہ نہیں۔ ریپڈ سپورٹ فورس RSF وہی جنگجو ملیشیا جو کبھی دارفور میں دہشت کی علامت تھی آج خود کو نجات دہندہ کہتی ہے انکے ہاتھوں میں بندوق ہے اور کانوں میں سونا۔
اماراتی طیارے ان کیلئے اسلحہ لاتے ہیں، روسی جہاز بندرگاہوں کے خواب دیکھتے ہیں، مصر اپنی سلامتی کے خوف میں مبتلا ہے، امریکہ اپنے مفاد کی پالیسی میں اور اسرائیل اپنی حکمتِ مکر میں۔ یہ جنگ اب محض سیاست نہیں جغرافیہ بھی بدل رہی ہے شمال فوج کے زیر اثر مغرب ملیشیا کے قبضے میں اور مشرق بندرگاہوں کے سوداگر کے حوالے یوں محسوس ہوتا ہے کہ سوڈان کا جسم باقی ہے مگر روح ٹکڑوں میں بٹ چکی ہے۔ اقوام متحدہ کہتی ہے کہ ایک کروڑ سے زائد لوگ بھوک بیماری اور بے گھری کے عذاب میں ہیں۔ سوڈان کی جنگ اس بات کا ثبوت ہے کہ انسان کی حرص قدرت سے بھی بڑی تباہی لا سکتی ہے جب اقتدار عبادت بن جائے تو پھر ظلم مقدس لگنے لگتا ہے۔ ہر فریق کہتا ہے وہ اصلاح چاہتا ہے لیکن زمین پر صرف خون کے دھبے چھوڑ جاتا ہے قرآن کی وہی آیت پھر گونجتی ہے جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد نہ پھیلاؤ تو وہ کہتے ہیں ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں۔ افریقہ کبھی غلاموں کا براعظم تھا صدیوں پہلے جب یورپ کے جہاز سونا ہاتھی دانت اور انسانوں کی تجارت کیلئے یہاں لنگر انداز ہوئے تب اس زمین نے غلامی کا پہلا زخم دیکھا آج وہی براعظم ایک نئی غلامی کے دہانے پر کھڑا ہے۔
فرق صرف اتنا ہے کہ اب بیڑیاں فولاد کی نہیں معاہدوں کی ہیں اور تلواریں لوہے کی نہیں کرنسی کی ہیں سامراج اب توپوں اور توپ خانوں سے نہیں بلکہ بینکوں اور بندرگاہوں سے آتا ہے۔ روس چین اور مغرب تین الگ نام تین نظریے مگر مقصد ایک ہی ہے اثر و رسوخ کا قبضہ سوڈان مالی نائیجر چاڈ اور کانگو جیسے ممالک اب کسی جنگی مہم کے میدان نہیں بلکہ ایک ایسی خاموش جنگ کے محاذ ہیں جہاں بندوقیں خاموش ہیں مگر قبضے جاری ہیں۔ اس پوری کہانی میں اصل سوال یہ نہیں کہ کون جیتے گا روس چین یا مغرب سوال درحقیقت یہ ہے کہ افریقہ اپنی جنگ کب جیتے گا وہ کب یہ سمجھے گا کہ اس کی تقدیر نیل کے پانیوں میں نہیں اسکے اپنے ہاتھوں میں لکھی ہے۔ افریقہ کی اصل دولت نہ سونا ہے نہ تیل بلکہ وہ انسان ہے جو اس مٹی سے جڑا ہے اگر وہ جاگ گیا تو کوئی طاقت اسے غلام نہیں رکھ سکتی لیکن اگر وہ سوتا رہا تو سامراج کا ہر نیا روپ اس کے سروں پر سایہ کرتا رہے گا اور شاید یہ تاریخ کا سب سے بڑا طنز ہے کہ وہ براعظم جو کبھی غلاموں کو بیچنے کی جگہ تھا آج بھی خود کو بیچنے پر مجبور ہے۔
لقمان اسد
بشکریہ روزنامہ جنگ
روئیداد خان: کچھ یادیں، کچھ باتیں
کوئی ایک سال پہلے میں نے روئیداد خان صاحب کو اپنی ایک کتاب کے سلسلے میں ٹیلی فون کیا جو ’صحافت اور سیاست‘ کے بارے میں ہے مگر بتایا گیا کہ وہ بیمار ہیں دوسرے دن ان کا خود ٹیلی فون آ گیا، ’’سوری مظہر، یار بونس پر چل رہا ہوں تم نے فون کیا تھا‘‘ میں نے کہا، آپ کیوں شرمندہ کر رہے ہیں سوری کہہ کر۔ اور پھر تقریباً 40 منٹ تک گفتگو ہوئی جو آج بھی میرے پاس محفوظ ہے۔ وہ ہماری سیاست ، بیوروکریسی کی متنازع تاریخ کے عینی شاہد ہیں فوجی ادوار سے لے کر سویلین حکومتوں تک۔ وہ 1949 کے ان 24 بیوروکریٹ میں سے ایک تھے جنہوں نے پاکستان سول سروس کا پہلا گروپ جوائن کیا۔ 12 مغربی پاکستان کے اور 12 مشرقی پاکستان کے۔ ان کی چند یادیں اور باتیں جو انہوں نے مختلف اوقات میں مجھ سے شیئر کیں پیش خدمت ہیں۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ وہ ایک متنازع شخصیت رہے۔ ’’مجھے جب پہلی بار ڈپٹی کمشنر پشاور بنا کر بھیجا جا رہا تھا تو ایک ہی ہدایت تھی کہ سرخوں پر نظر رکھنی ہے چاہے وہ سرخ پوش تحریک کے لوگ ہوں، کمیونسٹ پارٹی کے یا بائیں بازو نظریات رکھنے والے صحافی۔‘‘ میں نے کہا، مطلب قیام پاکستان کے بعد ہی یہ پالیسی بنالی گئی تھی۔ ’’ہاں اور جواز یہ پیش کیا گیا کہ ہم ایک نظریاتی ملک ہیں اور یہاں بائیں بازو کی گنجائش نہیں نہ ہی آزادی اظہار کی۔
لہٰذا ایسے سارے قوانین برقرار رکھے گئے جو انگریز تحریک آزادی کو کچلنے کے لیے لایا تھا۔ ہم نے جو سلوک بنگالیوں کے ساتھ کیا وہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔‘‘ میں نے پوچھا، خان صاحب کبھی آپ نے ان اقدامات کیخلاف اعلیٰ افسران سے بات نہیں کی۔ ہنس کر کہنے لگے، ’’میں ایک سرکاری ملازم تھا، بس سروس کرتا رہا کبھی کبھار کوشش کرتا مگر ڈانٹ پڑ جاتی تھی، اپنے کام سے کام رکھو۔‘‘ گو کہ وہ اس بات سے انکاری تھے مگر 90 کے انتخابات میں ایوان صدر میں ایک خفیہ الیکشن سیل، سابق صدر اور روئیداد خان کے ساتھی غلام اسحاق خان نے تشکیل دیا تھا جس میں روئیداد خان بھی شامل تھے۔ ’’یہ بات درست نہیں میں نے کبھی کوئی غیرقانونی کام نہیں کیا،‘‘ اس بار میں نے ہنس کر کہا، ’’خان صاحب کون سا ایسا مارشل لا ہے جس کی خدمت آپ نے نہیں کی۔‘‘ ’’یار، میں نے صرف نوکری کی ہے ورنہ جلد ہی نوکری جاتی۔‘‘ خان صاحب نے سرخ پوش تحریک اور نیشنل عوامی پارٹی کیخلاف کارروائیوں میں بھی حصہ لیا اور پھر یوں بھی ہوا کہ وہ نہ صرف ایک وقت میں عوامی نیشنل پارٹی میں گئے بلکہ خان عبدالغفار خان کے انتقال پر ان کے جنازے میں بھی شرکت کی۔
ایسا بھی ہوا کہ وہ صحافیوں اور اخبارات کیخلاف اقدامات کا بھی حصہ رہے خاص طور پر ایوب خان اور جنرل ضیاء الحق کے دور میں اور پھر 3 نومبر 2007 کو جنرل پرویز مشرف نے ملک میں صف اول کے ٹی وی اینکرز اور چینلز پر پابندی لگائی تو صحافیوں کی 90 روز کی تحریک میں وہ تقریباً ہر دوسرے روز میلوڈی پر قائم احتجاجی کیمپ میں اور جلوسوں کا حصہ رہے۔ مہناج برنا، احمد فراز، ناصر زیدی کے ساتھ آکر شریک ہوئے۔ انہوں نے 12 اکتوبر 1999 کے بعد جنرل مشرف کی حکومت کو اپنی خدمات پیش بھی کیں اور بعد میں وکیلوں کی تحریک میں شرکت بھی کی۔ ان کی آخری جماعت پاکستان تحریک انصاف تھی۔ انہوں نے آمرانہ ادوار کو بھی اپنی سروس پیش کی اور اہم ترین عہدے لیے مثلاً سیکرٹری داخلہ اور سیکرٹری اطلاعات وہ بھی ایوب اور ضیاء کے دور میں اور نواز شریف کے وزارت عظمیٰ کے دور میں بھی وہ ’خدمات‘ انجام دیتے رہے۔ مگر اب جو واقعہ بقول خود روئیداد خان ان کی زندگی کا ناقابل فراموش ہے وہ 4 اپریل 1979 کی رات کا واقعہ ہے۔ گو کہ وہ تردید کرتے ہیں کہ انہوں نے بھٹو کی پھانسی کے ’ڈیتھ وارنٹ‘ پر دستخط کیے مگر بطور سیکرٹری داخلہ اس وقت سب سے پہلے سرکاری افسران میں جیل میں موجود افراد میں، کہتے ہیں وہ بھی تھے۔
جو واقعہ انہوں نے مجھے اس رات کا سنایا وہ اگر درست ہے تو وہ اس وقت کی پی پی پی کی قیادت کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے۔ ذاتی طور پر اس بات کو سن کر مجھے تعجب اس لیے بھی نہیں ہوا کہ ان کرداروں کی بہت سی کہانیاں خود بیگم نصرت بھٹو اور بے نظیربھٹو سے میں نے سنی ہیں۔ میں نے 4 اپریل کے حوالے سے ماضی میں بہت کچھ لکھا ہے دونوں خواتین رہنمائوں کے انٹریوز سمیت مگر جو بات روئیداد خان صاحب نے سنائی وہ انتہائی حیران کن اور سبق آموز ہے۔ ’’مظہر، یہ بات آج میں تمہیں پہلی بار بتا رہا ہوں پہلے بھی کسی کو نہیں بتائی۔ 4 اپریل کو کوئی 4 یا 5 بجے کا وقت ہو گا ظاہر ہے وہ سونے والی رات نہیں تھی۔ بہر حال میں اس وقت اپنے بیڈروم میں تھا جب گارڈ نے آ کر اطلاع دی کہ جناب عبدالحفیظ پیرزادہ اور ممتاز بھٹو آئے ہیں۔ میں حیران رہ گیا مگر گارڈ سے کہا انہیں کمرے میں یعنی ڈرائنگ روم میں لے آئو۔ ظاہر ہے اس وقت وہ چائے پینے نہیں آئے تھے بس سلام کے بعد ان میں سے ایک نے غالباً پیرزادہ صاحب نے صرف یہ پوچھا، کیا پھانسی ہو گئی میں یہ کہتے ہوئے صوفہ پر بیٹھ گیا، جی، تھوڑی دیر پہلے۔
دونوں میرے قریب آئے اور بس یہ کہتے ہوئے نکل گئے، بڑا افسوس ہوا ہماری تاریخ کا ایک باب اختتام پذیر ہوا۔ ’’میں توقع کر رہا تھا کہ وہ کچھ مزید تفصیل معلوم کریں گے مگر وہ میرے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر، افسوس کر کے روانہ ہو گئے۔‘‘ انہوں نے ایک بار یہ بھی انکشاف کیا تھا کہ جس طرح کی حکومتیں قیام پاکستان کے پہلے 10 سال میں تیزی سے تبدیل ہوئیں اور جوکچھ بنگال میں اس دوران ہوا اس نے پاکستان کی بنیادیں ہلاکر رکھ دیں۔ ’’ایوب خان کی بحیثیت آرمی چیف وزارت دفاع پر تقرری شاید بڑی بنیادی غلطی تھی۔ 1958 کا مارشل لا لگا تو میرے بنگالی سول سرونٹ دوست، جس نے میرے ساتھ ہی 1949 میں پاکستان سول سروس جوائن کی، نے کہا تھا کہ ہماری رسائی اسلام آباد تک تو تھی اب پنڈی کے ساتھ چلنا مشکل ہے۔‘‘ ابھی کالم ختم ہی کر رہا تھا کہ جنگ کے ادارتی صفحہ کے انچارج حیدر تقی صاحب کے انتقال کی خبر نے پچھلے کئی سال کی رفاقت، شفقت اور بے تکلفی کے ان گنت واقعات کی یاد تازہ کر دی۔ میں ہمیشہ ڈیسک پر کام کرنے والوں کو صحافت کے خاموش سپاہی کہتا ہوں۔ تقی صاحب کا تعلق نہ صرف اس ملک کے علمی و ادبی گھرانے سے تھا جن کے والد سید محمد تقی جنگ اخبار کے مدیر بھی رہے بلکہ رئیس بھائی سے لے کر جون بھائی تک کون ہے جو اس گھرانے سے واقف نہیں۔ آخری بار ان سے ایک ہفتہ پہلے فون پر بات ہوئی تو اپنے مخصوص انداز میں کہنے لگے، ’’بھائی مظہر، کالم دفتر پہنچا دینا، کچھ دن کی چھٹی پر ہوں۔ گویا، زندگی رہی تو ملاقات رہے گی۔‘‘ گویا لفظ اس گھرانے میں اکثر استعمال ہوتے سنا ہے بس ’گویا‘ سے آخری بار یہیں بات ہوئی تھی۔ ایک اچھا انسان، صحافی نہیں رہا۔ اللہ تعالیٰ ان کے اہل خانہ کو صبر عطا کرے۔ آمین۔
مظہر عباس
بشکریہ روزنامہ جنگ
اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہیں اور مراعات
بے شک ملک میں بڑھتی مہنگائی اور یوٹیلٹی بلوں میں شتر بے مہار اضافے سے عام آدمی ہی نہیں، متوسط اور کسی حد تک اس سے اوپر کے طبقات بھی متاثر ہوئے ہیں جبکہ روز افزوں مہنگائی سے حکومت کے ٹھوس، مربوط اور جامع اقدامات و فیصلوں سے ہی عوام کو نجات مل سکتی ہے۔ اس کیلئے فیصلے انہی منتخب ایوانوں میں ہونے ہیں جن کے ارکان عوام کے اقتصادی مسائل سے صرفِ نظر کرتے ہوئے صرف اپنی تنخواہوں اور مراعات میں اضافے کے بل منظور کرا رہے ہیں جس کیلئے ایسی تاویلیں پیش کی جا رہی ہیں کہ یہ ارکان اقتصادی مسائل کے بوجھ تلے دبے مظلوم انسان نظر آئیں۔ لیکن قوم کے مسیحا کہلوانے والے حکمراں، وزراء و سفرا ء کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ ان کی ناقص پالیسیوں اور قول و فعل کے تضادات کے سبب عالمی سطح پر ملک وقوم کو کس شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، آج کل بھی ایسی ہی خبر میڈیا و اخبارات کی شہ سرخیوں کی زینت بنی ہے جسے مقروض پاکستان کے حوالے سے کہیں بھی ٹھنڈے پیٹوں قبول نہیں کیا جائے گا۔ خبر کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے ارکان قومی اسمبلی و سینیٹ کی تنخواہوں میں اضافے کا فرمائشی پروگرام کچھ ردو کد کے بعد قبول کرتے ہوئے ان کی تنخواہو ں میں یکمشت 3 لاکھ سے زائد کا اضافہ منظوری کیلئے وزیر اعظم شہباز شریف کو بھجوایا جو منظور کر لیا گیا ہے۔
اسپیکر قومی اسمبلی کی زیر صدارت یہ سفارشات پارلیمنٹ کی فنانس کمیٹی کے اجلاس میں طے پائی تھیں۔ واضح رہے کہ مالیاتی بجٹ 2024-2025 میں اراکین اسمبلی کی تنخواہوں میں اضافے کا اختیار فنانس کمیٹی کے سپرد کیا گیا تھا اور اب فنانس کمیٹی کا کہنا ہے کہ ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہیں پنجاب کے ارکان اسمبلی کے برابر کی جائیں۔ اس وقت سینیٹ اور قومی اسمبلی میں ایک رکن پارلیمنٹ کی تنخواہ 2 لاکھ 18 ہزار روپے ہے، پارلیمنٹ کی فنانس کمیٹی اور اسپیکر قومی اسمبلی کی سفارشات پر اب ہر رکن پارلیمنٹ کی تنخواہ 5 لاکھ 19 ہزار روپے ہو جائے گی، وزیر اعظم کی منظوری کے بعد اگرچہ تنخواہوں میں اضافے کا یہ معاملہ دونوں ایوانوں کی متعلقہ قائمہ کمیٹیوں میں جائے گا لیکن غالب امکان ہے کہ وہاں بھی اس پر کسی اعتراض کا کوئی امکان نہ ہو گا اور یہ معاملہ بخیر و خوبی سے نبیڑ لیا جائے گا کیونکہ قائمہ کمیٹیاں غیر تھوڑی ہیں سب ایک ہی ”تالاب“ کا حصہ ہیں۔
اس سے قبل وسط دسمبر 2024 میں پنجاب اسمبلی نے اپنے اراکین کی تنخواہوں پر نظر ثانی بل 2024 منظور کیا تھا جس کے بعد ایک رکن اسمبلی کی تنخواہ 76 ہزار سے بڑھا کر 4 لاکھ اور وزراء کی تنخواہیں ایک لاکھ سے بڑھا کر 9 لاکھ 60 ہزار جب کہ ڈپٹی اسپیکر کی تنخواہ ایک لاکھ 20 ہزار سے بڑھا کر 7 لاکھ 75 ہزار روپے کی گئی تھی، پارلیمانی سیکرٹری کی 83 ہزار روپے بڑھا کر 4 لاکھ 51 جبکہ وزیر اعلیٰ کے مشیران کی تنخواہیں ایک لاکھ سے بڑھا کر 6 لاکھ 65 ہزار اور وزیر اعلیٰ پنجاب کے معاون خصوصی کی تنخواہ ایک لاکھ سے بڑھا کر 6 لاکھ 65 ہزار روپے کی گئی تھی۔ اسپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے ارکانِ پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں اضافہ کیلئے اعلیٰ عدلیہ کے ججوں اور چیف جسٹس صاحبان کی تنخواہوں کا تقابلی جائزہ پیش کیا گیا جن کے بقول سپریم کورٹ اور ہائیکورٹس کے ججوں اور چیف جسٹس صاحبان کی تنخواہیں 25 سے 28 لاکھ روپے ماہانہ تک بڑھ چکی ہیں جبکہ پارلیمنٹ کے ارکان پر بجلی، گیس کے بلوں، پارلیمنٹ لاجز کے کرایہ اور مہمانوں کی آؤ بھگت سمیت مالی اخراجات کا بہت زیادہ بوجھ ہے جس سے عہدہ برا ہونے کیلئے وہ اپنی تنخواہوں اور مراعات میں خاطر خواہ اضافے کے متقاضی تھے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے 67 ارکان کی جانب سے تنخواہوں میں اضافہ کا تحریری مطالبہ کیا گیا تھا۔ دوسری جانب حکومت یہ کہہ کرمختلف محکمے اور ادارے بند کر رہی ہے کہ اس کے پاس تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگی تک کیلئے سرمایہ نہیں، تو پھر ان حالات میں یہ بات سمجھ سے بالا تر ہے کہ ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہ اور مراعات میں اضافے کیلئے حکومت ماہانہ بنیادوں پر یہ پیسہ کہاں سے لائے گی؟ دوسری جانب عدالت عظمیٰ کے ججز کے درمیان عدالتی امور کے سلسلہ میں تنازع اور رائے زنی تشویش ناک صورتحال اختیار کر گئی ہے۔ نظام عدل اور عدلیہ کسی بھی خود مختار اور مستحکم ملک و معاشرے میں عوام کی آخری امید ہی نہیں بلکہ ریاست، جمہوریت اور نظام کی مستحکم فصیل ہوتی ہے۔ چرچل کا جملہ آفاقی حقیقت کے طور پر مشہور ہے کہ جس ملک میں عدالتیں انصاف کر رہی ہوں، اسے کوئی شکست نہیں دے سکتا۔ اس کا منطقی مطلب یہ ہوا کہ جہاں انصاف نہیں ہو گا، اس ملک و معاشرے کو کسی دشمن کا ضرورت نہیں۔ پاکستان کی عدلیہ باوجود مقدمات کے فیصلوں میں لامتنا ہی تاخیر اور رکاوٹوں کے عوام کی امید ہے۔
ایسے میں جب معزز عدالت کے محترم جج صاحبان ہی ایک دوسرے کے ساتھ تنازعات کا شکار ہوں گے تو انصاف کی امید رکھنے والے عوام کے جذبات اور امیدوں کا کیا بنے گا؟۔ بینچ بنانے کا اختیار ہو یا ججمنٹ اور انتظامی امور کے درمیان کوئی ابہام سامنے آئے تو ہم پوری قوم کی طرح یہ توقع رکھتے ہیں قانون و انصاف کو سمجھنے والے دماغ جن سے آئین کی تشریح کیلئے رجوع کیا جاتا ہے، وہ بند کمرے میں بیٹھ کر دلائل کی روشنی میں مسئلہ حل کریں اور جو بھی آئین پاکستان کی منشا اور مقصد کے قریب حل ہے اسے اختیار کر لیا جائے۔ مختلف مواقع پر معزز جج صاحبان عالمی رینکنگ میں عدلیہ کے بہت نیچے چلے جانے پر تشویش کا اظہار کرتے آ رہے ہیں، انصاف میں تاخیر اور مقدمات کی تیز تر سماعت کے ذریعے عدالتی وقار میں اضافے کی تجاویز اور کوششیں بھی قریباً تمام جج صاحبان کی جانب سے سامنے آتی رہتی ہیں، لیکن اس طرح کی صورتحال ان تمام کوششوں پر پانی پھیر دینے کے مترادف ہے، اس سے ہر ممکن حد تک احتراز لازم ہے۔
خلیل احمد نینی تا ل والا
بشکریہ روزنامہ جنگ
وہ عادات جو انسان کے دماغ کو آہستہ آہستہ تباہ کر دیتی ہیں
ہمارا دماغ ہر روز انتھک کام کرتا ہے، یادداشت، توجہ، جذبات اور فیصلے لینے جیسے اہم افعال کو کنٹرول کرتا ہے۔ مگر ماہرین کے مطابق ہم میں سے اکثر لوگ انجانے میں ایسی عادات اختیار کر لیتے ہیں جو وقت کے ساتھ دماغی صحت کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ معروف نیوروسرجن ڈاکٹر رچرڈ وینا، جنہیں نیوروسرجری میں 25 سال سے زائد کا تجربہ حاصل ہے، نے انسٹاگرام پر ایک پوسٹ میں ایسی چار عام روزمرہ کی عادات کی نشاندہی کی ہے جو دماغ کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔
1: ناکافی نیند
ڈاکٹر وینا کا کہنا ہے کہ مسلسل نیند کی کمی دماغ کی مرمت کرنے کی صلاحیت کو کمزور کر دیتی ہے۔ ان کے مطابق مناسب نیند کے بغیر دماغ زہریلے مادے خارج نہیں کر پاتا اور نہ ہی یادداشت کو درست طور پر محفوظ کر سکتا ہے، جس سے ذہنی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔
2: ورزش سے گریز
ورزش دماغ میں خون کے بہاؤ کو نمایاں طور پر بڑھاتی ہے، جس سے یادداشت اور توجہ میں بہتری آتی ہے۔ ڈاکٹر رچرڈ وینا کا کہنا ہے کہ جسمانی سرگرمی صرف جسم کے لیے نہیں بلکہ دماغی تیزی اور واضح سوچ کے لیے بھی انتہائی ضروری ہے۔
3: مسلسل ذہنی دباؤ
ڈاکٹر وینا خبردار کرتے ہیں کہ طویل مدتی ذہنی دباؤ، کورٹیسول نامی ہارمون کی سطح بڑھا دیتا ہے، جو دماغی خلیات کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ ان کا مشورہ ہے کہ ذہنی دباؤ پر قابو پانے کے لیے مائنڈ فلنیس، مراقبہ یا دن بھر میں مختصر وقفے مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
4: زیادہ پراسیسڈ خوراک کا استعمال
ڈاکٹر کے مطابق زیادہ شکر اور ریفائنڈ کاربوہائیڈریٹس پر مشتمل غذائیں دماغ میں سوزش کو بڑھا کر اسے جلد بوڑھا کر سکتی ہیں۔ ان کے مطابق مکمل اور متوازن غذا کا استعمال دماغی صحت کو بہتر بنانے میں مدد دیتا ہے۔
بشکریہ اردو نیوز
ٹرمپ اور کشمیر کا ڈیڑھ ہزار سال پرانا مسئلہ
مجھے ان پنڈتوں کی حیرت پر حیرت ہے جو تنازعہ کشمیر کے بارے میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تازہ ترین گیان پر ششدر گول گول دیدے گھما گھما کر ایک دوسرے سے پوچھ رہے ہیں کہ واقعی ٹرمپ صاحب نے صدارتی طیارے ایئرفورس ون میں سوار ایک رپورٹر کے سوال کے جواب میں پاکستان انڈیا کشیدگی کے بارے میں وہی کہا جو ہمارے گناہ گار کانوں تک پہنچا۔ ’انڈیا اور پاکستان جیسا کہ سب جانتے ہیں بہت قریب قریب ہیں۔ وہ کشمیر کے لیے ہزاروں برس سے لڑ رہے ہیں۔ کشمیر تنازعہ ہزاروں برس بلکہ شاید اس سے بھی پرانا ہے۔ کل (منگل) وہاں تیس سے زائد لوگوں کی ہلاکت ہوئی۔ یہ بہت برا ہوا۔ ان کی سرحدوں پر پندرہ سو برس سے کشیدگی ہے مگر میں دونوں طرف کے رہنماؤں کو جانتا ہوں۔ وہ کسی نہ کسی طریقے سے یہ مسئلہ سلٹا لیں گے۔ اس وقت بہت کشیدگی ہے مگر یہ تو ہمیشہ سے ہے۔‘ یقیناً چند گھنٹوں یا ایک آدھ دن میں وائٹ ہاؤس سے کوئی نہ کوئی وضاحتی بیان جاری ہو جائے گا کہ جنابِ صدر کا مطلب یہ نہیں وہ تھا۔ ان کی بات کو سیاق و سباق سے ہٹ کے پیش کیا جا رہا ہے وغیرہ وغیرہ۔
ہم تب تک یہی خودکلامی کرتے رہیں گے کہ ایسا کیسے ہو سکتا ہے۔ واحد سپر پاور کا سربراہ عالمی سیاست، حالاتِ حاضرہ اور جغرافیے سے اتنا نابلد کیوں ہو گا۔ وہ بھی ایک ایسا لیڈر جس کے ایک جملے پر چند دن پہلے ہی دنیا بھر کی سٹاک مارکیٹوں میں کھربوں ڈالر ڈوب گئے۔ نہیں یار ہم ہی بے وقوف ہیں۔ دراصل بھائی ٹرمپ کی حسِ مزاح بہت تیز ہے۔ وہ انڈیا اور پاکستان پر طنز کر رہے تھے کہ یہ تو عادی جھگڑالو ہیں۔ ان کے بیچ میں پڑنا بے وقوفی ہے۔ خود ہی پہلے کی طرح ایک دوسرے سے نمٹ لیں گے۔ لیکن اگر بھائی ٹرمپ ماضیِ قریب میں یہ کہہ سکتے ہیں کہ ریاست اوہایو میں تارکینِ وطن مقامی لوگوں کے کتے بلیاں بھی کھا رہے ہیں، اگر وہ ڈنمارک سے پوچھ سکتے ہیں کہ بھیئا گرین لینڈ کس بھاؤ بیچو گے ورنہ ہم زبردستی پکڑ لیں گے، یا کووڈ وویڈ کچھ نہیں یہ تو طبی سائنسدانوں کی شعبدے بازی ہے، یا عالمی ماحولیات کی ابتری محض مٹھی بھر نام نہاد ماہرین کا پروپیگنڈہ ہے، یا میں تو کینیڈا کو امریکہ کا اکیاونواں صوبہ سمجھتا ہوں اور جسٹن ٹروڈو وہاں کا گورنر ہے۔
یا غزہ کا آسان حل یہ ہے کہ تمام فلسطینی نکل جائیں تاکہ اس خوبصورت پٹی میں سیاحت کے فروغ کے لیے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری ہو سکے، یا 20 فیصد علاقہ روس کے اور 50 فیصد معدنی دولت امریکہ کے حوالے کر کے صدر زیلنسکی یوکرین کے لیے امن خرید سکتے ہیں تو اس میں حرج ہی کیا ہے۔ یا ٹرمپ صاحب کا یہ خیال کہ چین اور یورپی یونین سمیت دنیا کا ہر ملک اور خطہ امریکہ کو بےوقوف بنا کے اس کی پیٹھ پر سواری کر رہا ہے وغیرہ وغیرہ۔ اگر مندرجہ بالا وچار آپ کو مزاح نہیں لگتے تو پاکستان انڈیا کشیدگی پر صدر ٹرمپ کے گراں قدر خیالات کو طنز یا سنجیدگی کے ترازو میں تولنے کا سوال کیوں اٹھایا جائے۔ کچھ حاسد تو یہ تک کہہ رہے ہیں کہ دراصل ٹرمپ صاحب کا وائٹ ہاؤس میں ہونا ہی امریکی نظام پر گہرا طنز ہے۔ ضروری تو نہیں کہ بادشاہ تاریخ، جغرافیے اور سیاسی معلومات میں بھی شمشیر زنی اور گھڑ سواری کی طرح طاق ہو۔ اس کام کے لیے تنخواہ دار اتالیق اور مشیر وزیر کافی نہیں؟ بادشاہ کو امورِ مملکت پر نگاہ رکھنے سمیت اور بھی ضروری کام ہو سکتے ہیں۔ بقول ابنِ انشا ’تم ان پڑھ رہ کر اکبر بننا پسند کرو گے یا پڑھ لکھ کر اس کے نو رتن؟ (اردو کی آخری کتاب)۔
ہم صرف ٹرمپ صاحب کے علم کو ہی کیوں نشانہ بنائیں۔ صدر جیرلڈ فورڈ کو مخالف صدارتی امیدوار جمی کارٹر سے 1976 میں صدارتی مباحثے کے دوران بھی یقین نہیں تھا کہ مشرقی یورپ کے دیگر ممالک کی طرح پولینڈ بھی سوویت حلقہِ اثر میں شامل ہے۔ ریگن کے نائب صدر ڈان کوائل کا خیال تھا کہ لاطینی امریکہ میں رہنے والے لاطینی زبان بولتے ہیں۔ جارج بش جونئیر کی ’حیرت انگیز‘ جغرافیائی و سیاسی و لسانی معلومات پر تو امریکہ کے طنز بازوں نے ’بش ازم‘ کی پوری تحریک اٹھا دی تھی۔ بطور نمونہ ان کا ایک شہہ پارہ پیشِ خدمت ہے ’صدر مبارک (مصر)، ولی عہد عبداللہ (سعودی عرب) اور اردن کے شاہ سمیت خلیج کے تمام رہنماؤں سے میرے خوشگوار تعلقات ہیں‘۔ (واشنگٹن، 29 مئی 2003)۔ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ سابق صدر جو بائیڈن نے اکتوبر 2023 میں اس خبر پر دو بار شدید غم و غصہ دکھایا کہ حماس نے جنوبی اسرائیل پر حملے کے دوران چالیس بچوں کے سر قلم کر دیے۔ بعد ازاں وائٹ ہاؤس کے ترجمان کو کہنا پڑا کہ یہ غیر مصدقہ اطلاعات ہیں مگر صدر بائیڈن نے چند ماہ بعد ایک مرتبہ اور اس ’واقعہ‘ کا حوالہ دیا۔
اگر ہمارے پیارے سابق صدر ضیا الحق اسلام آباد میں ہونے والی ایک سائنس و ٹیکنالوجی کانفرنس میں جنات سے بجلی پیدا کرنے کی سائنسی کوششوں کی تعریف کر سکتے تھے۔ اگر سابق وزیرِ اعظم عمران خان جرمنی اور جاپان کی سرحدیں ملا سکتے ہیں۔ اگر آدرنئیے مہا گیانی مودی جی نے اپنے پہلے دور میں ممبئی میں انڈین سائنس اکیڈمی کی کانفرنس میں مندوبین کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر گنیش جی کی لاکھوں برس پہلے پلاسٹک سرجری کروا دی اور پھر ایک اور جگہ تاریخی حقائق درست کرتے ہوئے سکندرِ اعظم اور پورس کو گنگا کنارے لڑوا دیا تو ٹرمپ کے خیال میں کشمیر پر پاکستان انڈیا تنازعہ ڈیڑھ ہزار برس قدیم کیوں نہیں ہو سکتا ؟ میرے محلے دار عبداللہ پان والے سے اپنی دوستی کی بنیاد ہی ان کا لاثانی تاریخی شعور ہے۔ ایک بار انھوں نے یہ بھی بتایا کہ مارچ 1940 کے جس اجلاس میں قرار داد پاکستان پیش ہوئی، اس میں قائدِ اعظم اور علامہ اقبال سٹیج پر ساتھ ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔
میں نے تصیح کی جرات کی کہ عبداللہ بھائی اقبال کا تو دو سال پہلے ہی انتقال ہو گیا تھا۔ اعتماد سے لبالب بھرے عبداللہ بھائی نے پان پر ڈنڈی سے کتھے کی ملائی بناتے ہوئے بنا نظریں اٹھائے کہا ’ہو گیا ہو گا انتقال مگر اقبال صاحب سٹیج پر بیٹھے ہوئے تھے۔ میں نے خود تصویر دیکھی ہے۔‘ عبداللہ بھائی کے علم و فضل کے بارے میں بھلے کوئی کچھ بھی سوچے مگر خوش قسمتی سے عبداللہ بھائی کسی طاقتور ملک کے بادشاہ نہیں۔ ورنہ تو کروڑوں جانیں کرہِ ارض کے پان پر کتھے کی ملائی بن سکتی تھیں۔
وسعت اللہ خان
بشکریہ بی بی سی اردو
بھارت کی بڑھتی ہوئی تنہائی
حالیہ بارہ روزہ پاک بھارت جنگ میں یہ ثابت ہو گیا ہے کہ بھارت کا کوئی ملک طرف دار نہیں۔ اس مشکل وقت میں کسی ملک نے اس کا ساتھ نہیں دیا جب کہ پاکستان کا کئی ممالک ساتھ دے رہے تھے اور اعلانیہ پاکستان کی حمایت کر رہے تھے، ان میں چین، ترکیہ اور آذربائیجان کے نام قابل ذکر ہیں۔ بھارت کا کسی نے کیوں ساتھ نہیں دیا، اس میں اس کے جھوٹ کا بڑا عمل دخل ہے یعنی پہلگام حملے کے فوراً بعد پاکستان پر الزام لگانا۔ بھارت نے پاکستان پر پہلگام حملے کا الزام تو لگایا مگر اس کا ثبوت آج تک پیش نہیں کیا۔ مودی کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ پاکستان کارڈ پر ہی اب تک انتخابات میں کامیابیاں حاصل کرتا رہا ہے۔ یہ تمام دہشت گردانہ حملے آخر الیکشن سے پہلے ہی کیوں رونما ہوتے ہیں۔ لیکن پہلگام حملہ مودی کے گلے میں پھنس گیا ہے، وہ اس ڈرامے کو بہار میں ہونے والے الیکشن میں استعمال کرنا چاہتا تھا مگر پاکستان نے اس دفعہ اس کا سارا ڈرامہ درہم برہم کر دیا ہے۔ مودی سے بھارتی عوام کے سامنے جواب دیتے نہیں بن رہا ہے۔ پہلگام ڈرامے سے مودی کی عالمی سطح پر بھی بہت بے عزتی ہوئی اوراب اس کا سحر ٹوٹ چکا ہے۔ جہاں پاکستان پر جارحیت سے بھارت کی بدنامی اور تنہائی میں اضافہ ہوا ہے وہاں ایران اسرائیل جنگ میں اسرائیل کا ساتھ دینے سے اس کی مشرق وسطیٰ میں بھی بہت بے عزتی ہوئی ہے۔













.jpg)











.jpg)
.jpg)

