Search

salmanbasit11

ڈیوڑھیاں (سلمان باسط)

 

حیلہ کردیاں ہو جاندی اے کجھ تے دیر سویر

ایڈا کاہدا نھیر

 

سچ پچھیں تے کر چھڈیا ای مینوں ککھوں ہولا

تیتھوں کاہدا اوہلا

 

دھمی ویلے بانگ دے نال ای ماہی ٹُر گیا لام

فجری پے گئی شام

 

سب تو چھپ کے پشلے اندر ونّ دی منجھی ڈاہی

روواں وانگ شودائی

 

تردی آس تے جی اٹھاں تے ڈبدی نال مراں

دس کیہ ہور کراں

 

ڈگدا ٹیہندا اپڑ گیا آں ویکھ میں تیرے کول

ہون تے بوہا کھول

 

سوتر دی اٹّی دے مل تے یوسف نئیں اوں ملدے

سدھراں نوں ہن چھل دے

 

امرسمے کی کتھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سلمان باسط

تم کون دشا سے آئی ہو مجھے اتنی بات بتاؤ

میگھنینی ھو یا روپ متی ، یہ الجھن تو سلجھاؤ

کس سادھو، سنت، گیانی سے یہ تم نے پایا بھید

اک منتر پھونک کے کردینا من بھیتر گہرا چھید

  کاٹ کے چلّے ٹیلوں پرمیں ڈھونڈوں انت گیان

اب کیسے چھیڑوں عشق مرلّیا، کون لگائے تان

کس سوامی سے سیکھا ناری من کر لینا رام

چھوڑو سارے محل دو محلے ہردے کرو بسرام

یہ کلا کہاں سے پائی ہے، بھلا کس جوگی کے دوار

باھر شیتل روپ نہارے ، من میں سُلگے نار

وردان کی سندر کوملتا، یہ شبد کا نرمل روپ

سوچ کے کورے پنے پر یہ دھیان کی اُجلی دُھوپ

  کن بھاؤناؤں کا اکتارہ مری روح میں بجتا جائے

ذرا دیکھ کھڑا ہوں قرنوں سے ترے در پر سیس نوائے

کس وصل کے بھاگ میں لکھے تھے، کس رُت میں پُھول کھلے

کن جنموں کا سنجوگ تھا کس یُگ میں آن ملے

اک وقت مقرّر ہے

ہر بات کے کرنے کا
ہر کام کے ہونے کا
ہر شعر کے کہنے کا
ہر نظم کے لکھنے کا
اک وقت مقرر ہے
احساس کی نرماہٹ
جزبے کی فراوانی
خواہش کی جنوں خیزی
لفظوں میں بدلنے کا
اظہار میں ڈھلنے کا
اک وقت مقرر ہے
پھر دھیان کی شاخوں پر
اک کونپل کھلنے کا
اور یاد کے جنگل میں
جگنو کے چمکنے کا
اک وقت مقرر ہے
جس شخص سے ملنا ہو
اس شخص سے ملنے کا
اور ملتے رہنے کا
اک وقت مقرر ہے
پھر وقت نہیں رہتا
لہجے کا تآسّف بھی
جگنو کا تعاقب بھی
اشکوں کا تسلسل بھی
کچھ کام نہیں آتا
پھر درد کا صحرا ہے
بے انت جدائی ہے
پھر وقت نہیں رہتا
پھر کچھ بھی نہیں رہتا
ہر بات کے کرنے کا
ہر کام کے ہونے کا”*
اک وقت مقرر ہے”

(سلمان باسط)
اپنے عزیز دوست ڈاکٹر رؤف امیر مرحوم کی غزل کا ایک مصرع

Blog at WordPress.com.

Up ↑

Design a site like this with WordPress.com
Get started